Wednesday, 9 June 2021

حد نظر تک رات ہی رات

 حدِ نظر تک رات ہی رات

ایسا سفر اور تیرا سات

موج‌ و ہوا کی سمت نہ دیکھ

جلتی رہے گی شمع حیات

ظرف کفر‌‌ و ایماں تنگ

تیز شراب احساسات

مجھ کو اک انساں کی تلاش

تو مصروف‌ ذات و صفات

میری جبیں پر بھی ہیں شو

کچھ سجدوں کے الزامات


شور علیگ

منظور حسین 

No comments:

Post a Comment