نشیبِ دل میں کسی یاد کی نمو بھی نہیں
بچھڑ چُکے ہیں تو پھر تیری گفتگو بھی نہیں
میرے نصیب کی خوشیاں بھی تیرے ساتھ گئیں
پھر ایسا کیا ہے تُو میرے رو برو بھی نہیں
میرے رقیب نے میرا مزاج ہے اوڑھا
ہے کچھ اداس مگر اتنا ہو بہو بھی نہیں
نہ ہاتھ پھیرو میرے درد کے بگولوں پر
فریبِ دل بھی نہیں خواب و رنگ و بو بھی نہیں
تمہارے قُرب کی قیمت نہیں بساط میری
تمہارے جام سے زیادہ میرا لہو بھی نہیں
میں سر نِگوں ہوں تجھے سجدہ تو کر رہی ہوں مگر
کہ پھر نماز ادھوری ہے اگر وضو بھی نہیں
رقص کرتی ہی نہیں اب سانس فقط چلتی ہے
زندگی پگ میں تیرے پیار کے گھنگرو بھی نہیں
بدلتے وقت نے سب کچھ بدل دیا گلفام
کہ میں بھی تجھ میں نہیں اور خود میں تُو بھی نہیں
گلفام نقوی
No comments:
Post a Comment