Wednesday, 21 July 2021

خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا

 خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا

اک نیا شہر جسے عشق کی بنیاد کیا

میں اسی ایک تعلق میں جیے جا رہی ہوں

ہر قدم تو نے محبت سے ہمزاد کیا

کس پہ غفلت کا مقدمہ میں چلاؤ آخر

سچ تو یہ مجھے ہجر نے برباد کیا

جانے والے نے محبت کا بھرم کب رکھا

ہائے کس موڑ پہ آ کے مجھے ناشاد کیا

عمر بھر ذات کی چکی میں پسی ہوں میں بھی

شکریہ گردشِ ایام کہ فولاد کیا

دل میں مٹی سےمحبت تھی وطن کی اتنی

ہم نے پردیس میں اک دیس کو آباد کیا

گاؤں میں آئے تو کچھ اور ہی دنیا دیکھی

ہم نے پھر شہر کے لوگوں کو نہیں یاد کیا

میرے ہونٹوں پہ تو مہکتا ہے ترنم بن کر

دل کی گہرائی سے جب میں نے تجھے یاد کیا


ترنم شبیر

No comments:

Post a Comment