سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے
میں خود کلام ہوا خامشی پہ شعر کہے
ادھار لی ہے چمک ان حسین آنکھوں سے
پھر اس کے بعد کہیں روشنی پہ شعر کہے
یہ تیرے چھوڑ کے جانے کا فائدہ تو ہوا
مہینوں بعد تِری رخصتی پہ شعر کہے
شکستہ حال تھے وحشت کے درمیاں ہم نے
گھٹن کا دور سہا، خود کشی پہ شعر کہے
میں چاہتا تھا مِری ماں کبھی اداس نہ ہو
سو ماں کے واسطے اپنی خوشی پہ شعر کہے
وہ جانتا تھا کہ میں نے تو مر ہی جانا ہے
سو مجھ کو چھوڑ کے اس نے سبھی پہ شعر کہے
حسنین آفندی
No comments:
Post a Comment