Wednesday, 21 July 2021

سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے

 سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے 

میں خود کلام ہوا خامشی پہ شعر کہے 

ادھار لی ہے چمک ان حسین آنکھوں سے 

پھر اس کے بعد کہیں روشنی پہ شعر کہے

یہ تیرے چھوڑ کے جانے کا فائدہ تو ہوا

مہینوں بعد تِری رخصتی پہ شعر کہے

شکستہ حال تھے وحشت کے درمیاں ہم نے 

گھٹن کا دور سہا، خود کشی پہ شعر کہے

میں چاہتا تھا مِری ماں کبھی اداس نہ ہو

سو ماں کے واسطے اپنی خوشی پہ شعر کہے

وہ جانتا تھا کہ میں نے تو مر ہی جانا ہے

سو مجھ کو چھوڑ کے اس نے سبھی پہ شعر کہے


حسنین آفندی

No comments:

Post a Comment