طائرِ دِل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے
حیلہ سازی کے لیے دانۂ خال اچھا ہے
دل کے طالب نظر آتے ہیں حسِین، ہر جانب
اس کے لاکھوں ہیں خریدار، کہ مال اچھا ہے
تابِ نظارہ نہیں گو مجھے خود بھی، لیکن
دل میں کہتے ہیں کہ اے کاش نہ آئے ہوتے
ان کے آنے سے جو بیمار کا حال اچھا ہے
مطمئن بیٹھ نہ اے راہروئے راہِ عروج
تیرا رہبر ہے اگر، خوفِ زوال اچھا ہے
نہ رہی بے خودئ شوق میں، اتنی بھی خبر
ہجر اچھا ہے، کہ محروؔم وصال اچھا ہے
تلوک چند محروم
No comments:
Post a Comment