Thursday, 12 November 2020

اک عمر سے من میں ایک لگن

 فنا فی العشق

(Destiny of Soul)


اک عمر سے من میں ایک لگن

اے عشق! تیری نگری جائیں

کچھ دن تیرے مہمان رہیں

پھر دائم تیرے ہو جائیں

ہمیں دھانی چُنر کی چاہت تھی

پوشاک بسنتی حسرت تھی

ہم خواب کمانے نکلے تھے

من کو بہلانے نکلے تھے

اے عشق جنوں اے عشق فسوں

تُو دیکھ کہ تیری گلیوں میں

سب خواب ہمارے خاک ہوئے

تُو دیکھ کہ تیری گلیوں میں

تن من کے دامن چاک ہوئے

تُو بخش ہمیں بے باک نظر

خوشبو کی طرح سانسوں میں اتر

آتش میں جلا صندل کر دے

خس کہہ کے بلا مخمل کر دے

ایسا کر ہم کو خاک بنا

اپنی گلیوں میں خوب اڑا

پھر جامِ فنا ہاتھوں سے پلا

اک سانس فنا اک سانس بقا

ہم بھول کے وردِ من و تُو

اے عشق پکاریں تُو ہی تُو


کنول حسین

No comments:

Post a Comment