سدا بہارِ گلستاں کی آرزو نہ کرو
خزاں بھی ایک حقیقت ہے جستجو نہ کرو
کسی کے دل کو نہ چھیڑو زباں کے نشتر سے
جدا کرے جو دلوں کو وہ گفتگو نہ کرو
دیارِ عشق میں دامن جو چاک ہو جائے
یہ ابتدائے جنوں ہے ابھی رفو نہ کرو
کبھی جھکاؤ نہ سر ظالموں کی چوکھٹ پر
جو سر کٹے تو کٹے پر کبھی رکوع نہ کرو
چلو نہ ساتھ کبھی رہزنوں کے رستے پر
جو گمرہی پہ چلائے اسے گرو نہ کرو
کسی کے دِین سے نفرت کرو نہ دنیا میں
بناؤ دوست سبھی کو کبھی عدو نہ کرو
کرو نہ غیبتِ انساں، بچو برائی سے
کرو جو بات کرو منہ پہ پشتِ رو نہ کرو
کہو وہ بات جو سچی ہو جھوٹ مت بولو
غلط طریق پہ چلنے کی آرزو نہ کرو
غلط معاش، غلط ساکھ چھوڑ دو بزمی
برے معاش کے لوگوں کی آبرو نہ کرو
شبیر بزمی
No comments:
Post a Comment