Thursday, 12 November 2020

لیتے ہیں یہ اوروں سے ذرا بھیک زیادہ

 جو مجھ کو دکھایا گیا تاریک زیادہ

رہتا ہوں اسی خواب کے نزدیک زیادہ

یہ پہنچے ہوئے لوگ بہت پہنچے ہیں شاید

لیتے ہیں یہ اوروں سے ذرا بھیک زیادہ

اے چشمِ غریباں یوں پریشاں نہ ہوا کر

تو پہلے ہی رہتی نہیں کچھ ٹھیک زیادہ

میں خواب میں بھی خواب نہ دیکھوں گا کسی کے

اس کارِ اذیت میں ہے تضحیک زیادہ

مغرب زدہ سوچوں کی تجارت میں پڑے لوگ

باریک کو کرنے لگے باریک زیادہ

مے خانوں کی رونق یہ بتاتی ہے مبشر

چلتی نہیں دیوانوں کی تحریک زیادہ


مبشر میو

No comments:

Post a Comment