Thursday, 12 November 2020

اداسیوں کو کبھی دو رخصت خموشیوں سے کلام کر لو

 اداسیوں کو کبھی دو رخصت خموشیوں سے کلام کر لو

وضو کرو ا پنے آنسووں سے وفا کو اپنا امام کر لو

ملیں کبھی راستے میں گر تم کو اجنبی یا کہ اپنے پیارے

مجھے تو ماں نے تھا یہ سکھایا ادب سے سب کو سلام کر لو

سدا گھمنڈی سے بچ کے رہنا ہو جس کی فطرت میں دل دکھانا

یہ ہو نہ تم اپنے دل کے ہاتھوں میں آ کے جینا حرام کر لو

مجھے ہے کہنا یہ تم سے اتنا، عداوتوں کو ہی بھول جاؤ

محبتوں کی ادا دکھا کے کبھی بھی مجھ کو غلام کر لو

مرا تو بس ماننا ہے اتنا کہ الفتوں کا علم اٹھا کے

سبھی کو دنیا میں پیار بانٹو محبتوں میں ہی نام کر لو

بہار آئی گل کھلے ہیں چمن پہ بھی ہے نکھار کتنا

نظارے سارے یہ کہہ رہے ہیں ملن کا تم اہتمام کر لو

عجب سزا ہے کہ زندگی کو تو روز مر مر کے جی رہے ہیں 

یہ کہہ رہا ہے دل مچل کے، آج حجت تمام کر لو

یہ فیصلہ ہے شگفتہ دل کا دور تم سے نہ جا سکیں گے

بھلا کے ساری ہی الجھنیں تم تو دل میں میرے قیام کر لو


شگفتہ شفیق

No comments:

Post a Comment