Thursday, 12 November 2020

نہیں جاتی یہ حیرانی ہماری

نہیں جاتی یہ حیرانی ہماری

وہی ہے خواب سامانی ہماری

ہمارے پاس اس کی مشکلیں ہیں

اور اس کے پاس آسانی ہماری

سبھی کی دسترس میں آ رہے ہیں

کوئی دیکھے تو ارزانی ہماری

بتا قدموں پہ تیرے کیا جچے گا 

ہمارا دل، کہ پیشانی ہماری ؟

ہم اپنی کب خبر رکھتے ہیں سید

خبر رکھتی ہے بے دھیانی ہماری


سید فضل گیلانی

No comments:

Post a Comment