نہیں جاتی یہ حیرانی ہماری
وہی ہے خواب سامانی ہماری
ہمارے پاس اس کی مشکلیں ہیں
اور اس کے پاس آسانی ہماری
سبھی کی دسترس میں آ رہے ہیں
کوئی دیکھے تو ارزانی ہماری
بتا قدموں پہ تیرے کیا جچے گا
ہمارا دل، کہ پیشانی ہماری ؟
ہم اپنی کب خبر رکھتے ہیں سید
خبر رکھتی ہے بے دھیانی ہماری
سید فضل گیلانی
No comments:
Post a Comment