وسعتِ ذات
میرا کام وہی، میرے طور الگ
میری سوچ نئی، میرا غور الگ
میرا ساز نیا، میرا شور الگ
میرا وجد جدا، میرا زور الگ
میرا اپنا پتنگ، میری ڈور الگ
میرے کرگس، چیلیں، مور الگ
میرا وقت الگ، میرا دور الگ
میرے اندر ہیں کئی اور الگ
دلی بھی مری، بجنور بھی ہے
میری دھڑکن میں لاہور بھی ہے
میں حکم بھی ہوں، فریاد بھی ہوں
میں مرزا ہوں، فرہاد بھی ہوں
میں صید بھی ہوں، صیاد بھی ہوں
میں قیدی بھی، آزاد بھی ہوں
آباد بھی میں، برباد بھی میں
نوشاد بھی میں، ناشاد بھی میں
بیداد بھی میں، جلاد بھی میں
میں چیلا بھی، استاد بھی میں
کچھ لکھنؤ کی روداد بھی ہے
میرے اندر سندھی کھاد بھی ہے
اب آخر میں میری جان سنو
میری ہستی کی پہچان سنو
اوئے آصف سن، نعمان سنو
عدنان سنو، فرحان سنو
میں عام بھی ہوں، میں خاص بھی ہوں
میں حیدر ہوں، وقاص بھی ہوں
میں معافی بھی، قصاص بھی ہوں
میں بُلھے کا اخلاص بھی ہوں
مجھے بچپن میں ایمان ملا
تعلیم ملی،۔ قرآن ملا
قرآن میں پھر رحمان ملا
مجھے مولا کا احسان ملا
پھر دنیا کے بحران ملے
کچھ مشکل، کچھ آسان ملے
پھر سکھر، سندھ، ملتان ملے
کچھ ناسوتی میدان ملے
میدان میں کچھ حیوان بھی تھے
یاں پتھر کے بھگوان بھی تھے
انسان بھی تھے، شیطان بھی تھے
کچھ خیر بھی تھی، طوفان بھی تھے
طوفانوں کو جب چھان لیا
جب من مولا ہے مان لیا
میں فِرقہ پرستی بھول گیا
پھر ہر جا پہ اعلان کیا
میں ہند ہوں، عربستان بھی ہوں
میں سارا پاکستان بھی ہوں
حیدر علی
No comments:
Post a Comment