Sunday, 6 June 2021

تلخی کو اس کے دل سے مٹاتا رہا ہوں میں

 تلخی کو اُس کے دل سے مٹاتا رہا ہوں میں

پتھر سے آئینے کو بچاتا رہا ہوں میں

ہاں رقص کر سکی نہ کبھی زندگی مِری

پر ڈُگڈگی کمال بجاتا رہا ہوں میں

کرتا رہا ہوں سب کی محبت کا اعتبار

سب پر یقیں کا بوجھ بڑھاتا رہا ہوں میں

اک سیّدہ کو عشقِ مجازی سِکھا دیا

واعظ کو بھی شراب پلاتا رہا ہوں میں

کوئی جواب گہری خموشی نہ دے سکی

لیکن سوال پھر بھی اُٹھاتا رہا ہوں میں

وہ لوٹ ہی نہ آئے کہیں اگلی ٹرین سے

جس بے بسی سے ہاتھ ہلاتا رہا ہوں میں


اجمل فرید

No comments:

Post a Comment