ہمارا جس پہ تھا سب انحصار ختم ہوا
غرض تمام ہوئی اور پیار ختم ہوا
ہوئی نہیں یہ کہانی تو اختتام پزیر
اگرچہ سلسلہ یہ بار بار ختم ہوا
درست ہے کہ کہیں منزلوں کو بھول آئی
درست ہے کہ نظر کا غبار ختم ہوا
بس ایک سانحہ گزرا بڑی خموشی سے
کوئی گِلہ نہ کیا، انتظار ختم ہوا
یہی کہ مر گئے ہم لوگ جیتے جی اے دوست
ہماری عمر نہیں اعتبار ختم ہوا
وہ ظرف ہی نہیں دل بھی کمال رکھتا ہے
مقابلہ یہ بنا جیت ہار ختم ہوا
اسے کہو کہ عداوت سے باز آ جائے
اسے بتاؤ دلِ تار تار ختم ہوا
بقول آپ کے مُرجھا گیا ہے حسن کا پھول
بقول آپ کی عہدِ بہار ختم ہوا
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment