دنیا کے چمک دار خسارے کی تمنا
ہے صبر و قناعت میں بھی سارے کی تمنا
دُشوار ہوئی ہم پہ محبت کی سہولت
پیڑوں کو بھُگتنی پڑی آرے کی تمنا
اندھا ہوں مزا لیتا ہوں ٹھوکر کا سنبھل کر
گرتا ہوں تو ہوتی ہے سہارے کی تمنا
خاموش اُترتا گیا لہجوں کے بھنور میں
دل میں بھی نہیں آئی کنارے کی تمنا
مر جاؤں گا میں جلد اندھیرے کی گھُٹن سے
تم سب کو نِگل لے گی ستارے کی تمنا
رفتار بڑھاتی ہوئی یہ عمر کی گاڑی
ٹھہری ہوئی آنکھوں میں نظارے کی تمنا
مدفون ہے اب میرے ہی سینے میں مِرا دل
بس ذہن میں رہتی ہے بچارے کی تمنا
اجمل فرید
No comments:
Post a Comment