Friday, 4 June 2021

وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا

 وہ کبھی آپ سے وفا نہ کیا

خود سے خود کو اگر جدا نہ کیا

بھول جانا ہی ایک راہ، مگر

بھول جانے کا حوصلہ نہ کیا

خود کو پاؤں یا خود کو کھو جاؤں

بس یہی میں نے فیصلہ نہ کیا

عمر بھر در بدر بھٹکنا پڑا

ہائے کیوں خود سے رابطہ نہ کیا

بیخودی میں خودی کو گم کر کے

ہوش پانے کا مدعا نہ کیا

مجھ کو مجھ سے تھی اس قدر الفت

مرض بے جا کی بس دوا نہ کیا

کیا نثار آپ جانتے ہیں اسے

آئینہ گفتگو روا نہ کیا


احمد نثار

No comments:

Post a Comment