Saturday, 17 July 2021

کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے

 کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے

ہمنوا، اک عجیب سا دکھ ہے

ہر قدم حوصلے کی محتاجی

ہر قدم پر پڑا ہوا دکھ ہے

آ تجھے اپنا غم دکھاتا ہوں

دوسری رو میں تیسرا دکھ ہے

تُو بھی میرے خلاف بولا ہے

مجھ کو اس بات کا بڑا دکھ ہے

آج کی یہ نئی نئی الفت

یعنی کل کا نیا نیا دکھ ہے

گھر میں ہم دو ہی لوگ رہتے ہیں

ایک تو میں ہوں دوسرا دکھ ہے

خامشی میں عیاں ہے تنہائی

قہقہے میں چُھپا ہوا دکھ ہے


اجمل فرید

No comments:

Post a Comment