Saturday, 4 December 2021

کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں

 کچھ نئے خواب ہر اک فصل میں پالے گئے ہیں

ہم اسی جرم میں بستی سے نکالے گئے ہیں

ابھی زنجیر جنوں پاؤں میں ڈالے گئے ہیں

دیکھ کس سمت تِرے چاہنے والے گئے ہیں

کون اس شہر چراغاں میں ابھی آیا تھا

دور تک اس کے تعاقب میں اجالے گئے ہیں

حاکم وقت کے قدموں پہ سبھی ابن الوقت

رکھ کے دستار کو سر اپنا بچا لے گئے ہیں

تیرگی کیوں نہ مِرے خانۂ ہستی میں رہے

وہ سبھی جلتے چراغوں کو اٹھا لے گئے ہیں

کیا کہیں گزرے ہوئے وقت کے بارے میں سلیم

سخت مشکل سے دل و جاں یہ سنبھالے گئے ہیں


سلیم فراز

No comments:

Post a Comment