Saturday, 11 September 2021

زندہ ہیں ہم جو ہجر کے سود و زیاں کے ساتھ

 زندہ ہیں ہم جو ہجر کے سود و زیاں کے ساتھ

کٹ تو رہی ہے زندگی پر امتحاں کے ساتھ

ہوتا نہیں گزر مِرے گھر سے بہار کا

اب واسطہ پڑا ہے مسلسل خزاں کے ساتھ

رُسوائی کا جو چھینٹا ہے دامن پہ پڑ گیا

دُھل جائے گا یہ داغ بھی عمرِ رواں کے ساتھ

یہ زندگی کے کھیل ہیں ہوش و حواس کے

کیسے جئیں گے ہم تِرے وہم و گماں کے ساتھ

بچپن، جوانی، اور شبِ ہجر کا بھی غم

یادیں جُڑی ہیں کتنی پُرانے مکاں کے ساتھ

شاید بدل ہی جائے گی تقدیر اب مِری

باتیں تو ہو رہی ہیں مِری آسماں کے ساتھ

الفت کا روگ کون سحر پالتا ہے اب

رشتہ ہے لین دین کا دنیا جہاں کے ساتھ


سحر نورین

No comments:

Post a Comment