کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے
تمنا کیوں خسارہ مانگتی ہے
بقائے باہمی مشکل نہیں ہے
مگر ہستی اجارہ مانگتی ہے
حقائق تلخ ہوتے ہیں جبھی تو
محبت استعارہ مانگتی ہے
بدن درماندہ ہو جاتا ہے پھر بھی
نظر اک ماہ پارہ مانگتی ہے
بہت طاقت ہے میرے بازوؤں میں
مگر ہمت ستارہ مانگتی ہے
سفر اک عمر کا اس نے کیا ہے
یہ کشتی اب کنارہ مانگتی ہے
ہماری قوم جینے کے لیے بھی
کوئی غیبی اشارہ مانگتی ہے
یہ بستی جس کو دل کہتی ہے دنیا
یہ بستی پھر شرارہ مانگتی ہے
تنِ تنہا وہ تم نے کی ہے آصف
جو کاوش اک ادارہ مانگتی ہے
آصف اکبر جیلانی
No comments:
Post a Comment