Saturday, 11 September 2021

کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے

 کسی خودسر سے چارہ مانگتی ہے

تمنا کیوں خسارہ مانگتی ہے

بقائے باہمی مشکل نہیں ہے

مگر ہستی اجارہ مانگتی ہے

حقائق تلخ ہوتے ہیں جبھی تو

محبت استعارہ مانگتی ہے

بدن درماندہ ہو جاتا ہے پھر بھی

نظر اک ماہ پارہ مانگتی ہے

بہت طاقت ہے میرے بازوؤں میں

مگر ہمت ستارہ مانگتی ہے

سفر اک عمر کا اس نے کیا ہے

یہ کشتی اب کنارہ مانگتی ہے

ہماری قوم جینے کے لیے بھی

کوئی غیبی اشارہ مانگتی ہے

یہ بستی جس کو دل کہتی ہے دنیا

یہ بستی پھر شرارہ مانگتی ہے

تنِ تنہا وہ تم نے کی ہے آصف

جو کاوش اک ادارہ مانگتی ہے


آصف اکبر جیلانی

No comments:

Post a Comment