Monday, 9 August 2021

منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں

 ایک جیسے ہیں


منافع مشترک ہے اور خسارے ایک جیسے ہیں 

کہ ہم دونوں کی قسمت کے ستارے ایک جیسے ہیں 

میں اک چھوٹا سا افسر ہوں وہ اک موٹا سا مل اونر 

مگر دونوں کے گوشوارے ایک جیسے ہیں 

اسے ضعف بصیرت اسے ضعف بصارت ہے 

ہمارے دیدہ ور سارے کے سارے ایک جیسے ہیں

مٹن اور دال کی قیمت برابر ہو گئی جب سے 

یقیں آیا کہ دونوں میں حرارے ایک جیسے ہیں 

جہاں بھر کے سیاسی دنگلوں میں ہم نے دیکھا ہے 

انوکی اک سے اک اونچا ہے جھارے ایک جیسے ہیں 

وہ تھانہ ہو شفا خانہ و یا پھر ڈاک خانہ ہو 

رفاعِ عام کے سارے ادارے ایک جیسے ہیں

سرور جاں فزا دیتی ہے آغوش وطن سب کو 

کہ جیسے بھی ہوں بچے ماں کو پیارے ایک جیسے ہیں 

بلا کا فرق ہے لندن کی گوری اور کالی میں 

مگر دونوں کی آنکھوں میں اشارے ایک جیسے ہیں 

ہر اک بیگم اگرچہ منفرد ہے اپنی سج دھج میں 

مگر جتنے بھی شوہر ہیں بےچارے ایک جیسے ہیں

کوئی خوش ذوق ہی شاہد یہ نکتہ جان سکتا ہے 

کہ میرے شعر اور نخرے تمہارے ایک جیسے ہیں 

گماں ہوتا ہے شاہدؔ ریڈیو پر سن کے موسیقی 

کہ پکے راگ اور نمکیں غرارے ایک جیسے ہیں


سرفراز شاہد 

No comments:

Post a Comment