ان وفاؤں کا فقط اتنا صِلہ دے ہم کو
پیار گر جرم ہے تو آ کے سزا دے ہم کو
تیرے عاشق، تِری قسمت، تِری منزل ہیں ہم
ہیں اگر، بیچ کی دیوار گِرا دے ہم کو
پیکرِ خاک ہیں جاناں کہ ہیں واقف اس سے
دُھول صحرا کی سمجھ کر ہی اُڑا دے ہم کو
اب کہ دُکھ اوڑھ کے سو جاتے ہیں تنہا ہم بھی
تھام کر ہاتھ کسی روز جگا دے ہم کو
پے بہ پے تُو نے تو اقرارِ وفا کر ڈالا
اس خوشی سے ہی نہ مر جائیں دغا دے ہم کو
یہ محبت تو ضرورت ہے فقط جسموں کی
آگ اس میں نہیں مجنوں جو بنا دے ہم کو
رئیس احمد
No comments:
Post a Comment