Monday, 6 April 2026

اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

 اتنی گستاخی تو اے صیاد کر لیتا ہوں میں

قید غم سے روح کو آزاد کر لیتا ہوں میں

بیٹھے بیٹھے تجھ کو جس دم یاد کر لیتا ہوں میں

مایۂ صبر و سکوں برباد کر لیتا ہوں میں

وائے نادانی کہ پیدا کر کے تجھ سے بد ظنی

آپ اپنے دل کو خود ناشاد کر لیتا ہوں میں

ہو کے مجبور تماشا وہم کی تصویر سے

لذت ذوق نظر برباد کر لیتا ہوں میں

کر کے مستقبل کی کچھ رنگینیوں پہ اعتماد

غمزدہ دل کو بھی اپنے شاد کر لیتا ہوں میں

کچھ تصور سے تِرے کچھ دل سے ہو کر ہمکلام

اپنا یوں فرقت کدہ آباد کر لیتا ہوں میں


فائق برہانپوری

No comments:

Post a Comment