اپنی تصویر بنانے کی تمنا نہ رہی
میرے بیٹوں میں مِرا عکس نظر آنے لگا
زندگی بھر جو مجھے وقت نہیں دے پایا
اب مِری موت کے نزدیک وہ گھر آنے لگا
یعنی میں آپ کی سوچوں میں مگن رہتا ہوں
یعنی میں آپ کی اب زیر اثر آنے لگا
تھا کبھی والدِ مرحوم کا سایہ سر پر
دھوپ میں یاد گھنا مجھ کو شجر آنے لگا
پھر سے منصوبہ بنایا ہے تجھے ملنے گا
یعنی اک پیڑ پہ پھل بارِ دگر آنے لگا
اشک الفاظ میں ڈھلنے لگے آہستہ سے
ہم کو بھی شعر بنانے کا ہنر آنے لگا
فیصل مضطر
No comments:
Post a Comment