موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے نہیں دیا
اس کی کسی بھی چال کو چلنے نہیں دیا
لے کر جلو میں رات کی کرنوں کو رات بھر
مہتاب تیری یاد کا ڈھلنے نہیں دیا
یادوں کی زمہریر ہواؤں میں گم رہے
برفاب راستوں کو پگھلنے نہیں دیا
گرنے لگے تو اپنے ہی قدموں پہ آ گرے
اپنی انا نے ہم کو سنبھلنے نہیں دیا
قائم بہت دنوں سے جو شدت کی بھوک تھی
رزقِ حرام خود کو نگلنے نہیں دیا
قائم نقوی
No comments:
Post a Comment