Saturday, 4 April 2026

موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے نہیں دیا

 موسم کے ساتھ ساتھ بدلنے نہیں دیا

اس کی کسی بھی چال کو چلنے نہیں دیا

لے کر جلو میں رات کی کرنوں کو رات بھر

مہتاب تیری یاد کا ڈھلنے نہیں دیا

یادوں کی زمہریر ہواؤں میں گم رہے

برفاب راستوں کو پگھلنے نہیں دیا

گرنے لگے تو اپنے ہی قدموں پہ آ گرے

اپنی انا نے ہم کو سنبھلنے نہیں دیا

قائم بہت دنوں سے جو شدت کی بھوک تھی

رزقِ حرام خود کو نگلنے نہیں دیا


قائم نقوی

No comments:

Post a Comment