المیہ
ایک در
میرے احساس کی کچی سوندھی سی دالان میں
بے صدا، بے ہوا، بے طلب، بے سبب
خواب میں وا ہوا
ایک قوس قزح، یاد کی پیار کی
شانۂ و رخ پہ ہستی کے لہرا گئی
رنگ اڑنے لگا
پھول کی پتیاں جاگ اٹھیں خواب سے
تتلیاں بن کے اڑنے لگیں
کتنی معصوم کلیاں، بصد دلبری
پھول بننے کو پہلو بدلنے لگیں
اور گلوں کا یہ عالم کہ
رنگوں کے جھرمٹ میں دولہا بنے
بنت مہتاب سے
چھیڑ کرنے لگے
مصحف و آرسی کا سماں بن گیا
یہ سماں چاندنی سے نہ دیکھا گیا
شب کے پردے میں ناگن بنی ڈس لیا
فرمان فتحپوری
No comments:
Post a Comment