Sunday, 5 April 2026

المیہ ایک در خواب میں وا ہوا

 المیہ


ایک در

میرے احساس کی کچی سوندھی سی دالان میں

بے صدا، بے ہوا، بے طلب، بے سبب

خواب میں وا ہوا

ایک قوس قزح، یاد کی پیار کی

شانۂ و رخ پہ ہستی کے لہرا گئی

رنگ اڑنے لگا

پھول کی پتیاں جاگ اٹھیں خواب سے

تتلیاں بن کے اڑنے لگیں

کتنی معصوم کلیاں، بصد دلبری

پھول بننے کو پہلو بدلنے لگیں

اور گلوں کا یہ عالم کہ

رنگوں کے جھرمٹ میں دولہا بنے

بنت مہتاب سے

چھیڑ کرنے لگے

مصحف و آرسی کا سماں بن گیا

یہ سماں چاندنی سے نہ دیکھا گیا

شب کے پردے میں ناگن بنی ڈس لیا


فرمان فتحپوری

No comments:

Post a Comment