صفحہ زیست پہ ہے
کرب کے اشکوں کی لکیر
یہ ایسا باب ہے میری حیات کا
جس کو نہ لکھنا چاہوں کبھی
اور نہ پڑھنے کی خواہش ہے
میں جی رہی ہوں اسی لمحۂ موجود میں
اور سن لے
خوش بھی ہوں اور ہے مسکان
لبوں پر میرے
دعا ہے تجھ سے کبھی
سامنا نہ ہو میرا
میرا بھرم میرا اعتماد باقی رہے
جو تیرے سامنے آنے پہ
ذرا مشکل ہے
فرح ناز
No comments:
Post a Comment