Sunday, 5 April 2026

کرب کے اشکوں کی لکیر

 صفحہ زیست پہ ہے

کرب کے اشکوں کی لکیر

یہ ایسا باب ہے میری حیات کا

جس کو نہ لکھنا چاہوں کبھی

اور نہ پڑھنے کی خواہش ہے 

میں جی رہی ہوں اسی لمحۂ موجود میں

اور سن لے

خوش بھی ہوں اور ہے مسکان

لبوں پر میرے

دعا ہے تجھ سے کبھی

سامنا نہ ہو میرا

میرا بھرم میرا اعتماد باقی رہے

جو تیرے سامنے آنے پہ 

ذرا مشکل ہے


فرح ناز

No comments:

Post a Comment