Wednesday, 1 April 2026

یہ قطرہ دریا بنے اتنا اختیار تو دے

 یہ قطرہ دریا بنے اتنا اختیار تو دے

مِرے وجود کے رشتے کو کچھ قرار تو دے

غبار بن کے سرِ رہگزر بکھر جاؤں

کوئی خلوص سے آوازِ انتشار تو دے

میں جھک کے اونچے پہاڑوں سے کھائیاں پاٹوں

مجھے بھی ایسا قدِ موجِ آبشار تو دے

نہ جانے کب سے لبِ رہگزار تپتے ہیں

انہیں بھی کوئی سحابِ زرِ غبار تو دے

یہ کیا کہ جاگتے گنبد کا شہر سو جائے

مچل کے گونجنے والی کوئی پکار تو دے

یہ دیکھ لینا یہی شہر آشنا ہے ترا

تُو اپنا دوسرا چہرہ ذرا اتار تو دے

بہت طویل تو ہے قوس! دھڑکنوں کا سفر

اسے تو اب بھی رخِ شہرِ لا حصار تو دے


قوس صدیقی

No comments:

Post a Comment