دل پہ اتنا ہے یاد یار کا بوجھ
پھول پہ جس طرح نکھار کا بوجھ
سچ بتاؤں کہ اب نہیں اٹھتا
میری آنکھوں سے انتظار کا بوجھ
جانے کیا ہو گیا ہے دل کو مِرے
بھاری لگتا ہے اس کو پیار کا بوجھ
بوئے گل بھی کہاں سنبھالے گی
سارے گلشن پہ ہے بہار کا بوجھ
کون دورِ خرد میں جھیلے گا
اس گریباں کے تار تار کا بوجھ
اب زمیں نے اٹھا لیا سارا
جس قدر بھی تھا رہگزار کا بوجھ
کچھ نہیں سوجھتا ہے پھر فرحت
جب ہو انساں پہ اختیار کا بوجھ
فرحت اقبال
No comments:
Post a Comment