Thursday, 2 April 2026

دل پہ اتنا ہے یاد یار کا بوجھ

 دل پہ اتنا ہے یاد یار کا بوجھ

پھول پہ جس طرح نکھار کا بوجھ

سچ بتاؤں کہ اب نہیں اٹھتا

میری آنکھوں سے انتظار کا بوجھ

جانے کیا ہو گیا ہے دل کو مِرے

بھاری لگتا ہے اس کو پیار کا بوجھ

بوئے گل بھی کہاں سنبھالے گی

سارے گلشن پہ ہے بہار کا بوجھ

کون دورِ خرد میں جھیلے گا

اس گریباں کے تار تار کا بوجھ

اب زمیں نے اٹھا لیا سارا

جس قدر بھی تھا رہگزار کا بوجھ

کچھ نہیں سوجھتا ہے پھر فرحت

جب ہو انساں پہ اختیار کا بوجھ


فرحت اقبال

No comments:

Post a Comment