Thursday, 2 April 2026

لب فسردہ کو ساغر تلاش کرتا ہے

 لب فسردہ کو ساغر تلاش کرتا ہے

شکستہ ناؤ کو لنگر تلاش کرتا ہے

وہ کون شخص تھا جو دشت ظلمت غم میں

مسرتوں کا سمندر تلاش کرتا ہے

ضرور چھیڑے گا حق کی لڑائی کاغذ پر 

قلم خیال کا لشکر تلاش کرتا ہے

سفر جو کرتا ہے ہمت کی رہنمائی میں

قدم قدم پہ وہ ٹھوکر تلاش کرتا ہے

قمر کو شام و سحر ہے تلاش فکر و نظر

جو جوہری ہے وہ گوہر تلاش کرتا ہے


قمر سیوانی

No comments:

Post a Comment