تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے
یہ میرے پاؤں کی زنجیر کٹ بھی سکتی ہے
جو سچ کہا ہے تو اس کی سزا بھی جانتا ہوں
مجھے خبر ہے زباں میری کٹ بھی سکتی ہے
دلوں کے بیچ جو دوری ہے اس کو ختم کریں
یہ سرحدوں کی رکاوٹ تو ہٹ بھی سکتی ہے
مجھے شکست نظر آ رہی ہے خود اپنی
مگر یقین ہے بازی پلٹ بھی سکتی ہے
مِری نظر کو نہ آمادۂ نظارہ کر
مِری نظر تِرے رخ سے لپٹ بھی سکتی ہے
فیاض الدین صائب
No comments:
Post a Comment