Saturday, 4 April 2026

تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے

 تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے

یہ میرے پاؤں کی زنجیر کٹ بھی سکتی ہے

جو سچ کہا ہے تو اس کی سزا بھی جانتا ہوں

مجھے خبر ہے زباں میری کٹ بھی سکتی ہے

دلوں کے بیچ جو دوری ہے اس کو ختم کریں

یہ سرحدوں کی رکاوٹ تو ہٹ بھی سکتی ہے

مجھے شکست نظر آ رہی ہے خود اپنی

مگر یقین ہے بازی پلٹ بھی سکتی ہے

مِری نظر کو نہ آمادۂ نظارہ کر

مِری نظر تِرے رخ سے لپٹ بھی سکتی ہے


فیاض الدین صائب

No comments:

Post a Comment