Thursday, 2 April 2026

تیرے مرے میان جو دیوار بھی نہیں

 تیرے مِرے میان جو دیوار بھی نہیں

دنیا میں ایسا اور کوئی معیار بھی نہیں

ہم نے ازل سے جھوٹ کو ہی جھوٹ ہے کہا

یہ کیا ہوا جو ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

جو دشت کربلا کے ستم دیکھتا نہیں

اس کی نظر میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

گر میرا ہم خیال مِرے ساتھ یوں رہے

رستہ مِرے لیے کوئی دشوار بھی نہیں

احساس جس کے جسمِ، توانا میں ہو رواں

واللہ اس سا کوئی بھی خودار بھی نہیں

دل کس قدر ہے اب غمِ دنیا میں کھو گیا

تجھ سے بچھڑ کے تیرا طلبگار بھی نہیں

قاسم خیال ظالِموں کا سرغنہ ہے وہ

حق بات بولنے کو جو تیار بھی نہیں


قاسم خیال

No comments:

Post a Comment