مجھے ٹالنے کی خاطر تجھے چاہیے بہانہ
تجھے کب روا تھا مجھ سے یہ سلوک عامیانہ
تِری ہر ادا انوکھی مِرے قلب و جاں میں اترے
مِری روح کی غذا ہے تِرے ذکر کا ترانہ
کوئی جرم کر کے ثابت مجھے پھر سزا سناتا
نہیں میری جان ہر گز یہ طریق عادلانہ
مچا شور جب نگر میں تو کسی کو کب خبر تھی
کوئی کب بچھڑ کے نکلا، ہوا کس طرف روانہ
کوئی جا کے اس کو کہہ دے کرے ترک یہ رویہ
کبھی بے محل تغافل کبھی طرز دوستانہ
سر عام کٹ رہے تھے مِرے شہر کے شجر جب
گھنی چھاؤں لٹ رہی تھی رہا دیکھتا زمانہ
ذرا سوچ کیوں چمن میں یہ دھواں سا اٹھ رہا ہے
کبھی پوچھنا نہ مجھ سے جلا کیوں تھا آشیانہ
غم زندگی بتاؤں تجھے کس طرح سے شوکت
’’تجھے یاد کیا نہیں ہے مِرے دل کا وہ زمانہ‘‘
غلام فرید شوکت
No comments:
Post a Comment