Thursday, 20 May 2021

وقت سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں

 وقتِ سفر قریب ہے بستر سمیٹ لوں

بکھرا ہوا حیات کا دفتر سمیٹ لوں

پھر جانے ہم ملیں نہ ملیں اک ذرا رکو

میں دل کے آئینے میں یہ منظر سمیٹ لوں

یاروں نے جو سلوک کیا اس کا کیا گِلا

پھینکے ہیں دوستوں نے جو پتھر سمیٹ لوں

تارِ نظر بھی غم کی تمازت سے خشک ہے

وہ پیاس ہے، ملے تو سمندر سمیٹ لوں

اجمل بھڑک رہی ہے زمانے میں جتنی آگ

جی چاہتا ہے سینے کے اندر سمیٹ لوں


اجمل اجملی

No comments:

Post a Comment