Wednesday, 8 April 2026

ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے

 ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے

جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے

یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں

پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے

زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو

ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے

ڈھونڈتے تو ہیں مگر ڈھونڈ نہ پائیں گے لوگ

شامیانہ تِری یادوں کا جدھر لگتا ہے

بادلوں سے سے یہ کہو آج ادھر آ جائیں

دھوپ سے ایک پریشان شجر لگتا ہے

شمع فانوس میں جیسے کسی نے رکھ دی ہو

کتنا محفوظ علی آج بشر لگتا ہے


علی کاظم

No comments:

Post a Comment