ساتھ میں کوئی نہیں کوئی مگر لگتا ہے
جس کو اپنے سے الگ کرنے میں ڈر لگتا ہے
یہ پرندے ہیں نئے ان سے کہو صبر کریں
پہلے لگتا ہے قفس، پھر یہی گھر لگتا ہے
زندگی ٹھہری ہوئی لگتی ہے تم لاکھ چلو
ہمسفر ہو تو سفر کوئی سفر لگتا ہے
ڈھونڈتے تو ہیں مگر ڈھونڈ نہ پائیں گے لوگ
شامیانہ تِری یادوں کا جدھر لگتا ہے
بادلوں سے سے یہ کہو آج ادھر آ جائیں
دھوپ سے ایک پریشان شجر لگتا ہے
شمع فانوس میں جیسے کسی نے رکھ دی ہو
کتنا محفوظ علی آج بشر لگتا ہے
علی کاظم
No comments:
Post a Comment