جسے ٹھکرا دیا اور نذر کے قابل نہیں سمجھا
وہ میرا دل تھا لیکن تم نے اس کو دل نہیں سمجھا
رہِ عشق و وفا میں یوں چلا ہوں بے نیازانہ
کہ منزل بھی اگر آئی تو میں منزل نہیں سمجھا
وہ کیا پہنچے گا دریائے محبت کے کنارے پر
کہ جس نے موج کی آغوش میں ساحل نہیں سمجھا
بھری محفل میں تیری ایسا بیگانہ بس اک میں تھا
کہ اپنی بزم میں تُو نے جسے شامل نہیں سمجھا
حوادث سے جو گھبرائیں وہ ہوں گے اور ہی طلعت
کسی مشکل کو میں نے آج تک مشکل نہیں سمجھا
طلعت نہٹوری
طلعت حسین صدیقی
No comments:
Post a Comment