Tuesday, 7 April 2026

غلط کہنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی

 غلط کہنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی

کہ مجھ سے تو شکایت بھی نہیں ہوتی

تمہارے بن کہیں دل بھی نہیں لگتا 

مجھے تم سے محبت بھی نہیں ہوتی

مصیبت میں تو آتا ہے پلٹ اکثر 

مگر تب تک ضرورت بھی نہیں ہوتی

سنا ہے وہ بھی کہتے ہیں غزل یارو

جنہیں غم کی سہولت بھی نہیں ہوتی

بغاوت بھی نہیں کرتے جہاں والے

حکومت کی حمایت بھی نہیں ہوتی

جدا ہو کے بھی کہتا ہے ملو مجھ سے 

نہ جانے کی رعایت بھی نہیں ہوتی

تِری باتوں کا مُنکر تو نہیں ہوں میں 

مگر ان میں صداقت بھی نہیں ہوتی

محبت سے ملے ہیں دکھ سبھی افضل

کسی اک پر ملامت بھی نہیں ہوتی

گزر جاتا ہے آگے سے مِرا مجرم 

اسے مجھ سے ندامت بھی نہیں ہوتی

لبوں سے لب ملا دے وہ کبھی احسن

کوئی ایسی شرارت بھی نہیں ہوتی


عمیر احسن

No comments:

Post a Comment