غلط کہنے کی ہمت بھی نہیں ہوتی
کہ مجھ سے تو شکایت بھی نہیں ہوتی
تمہارے بن کہیں دل بھی نہیں لگتا
مجھے تم سے محبت بھی نہیں ہوتی
مصیبت میں تو آتا ہے پلٹ اکثر
مگر تب تک ضرورت بھی نہیں ہوتی
سنا ہے وہ بھی کہتے ہیں غزل یارو
جنہیں غم کی سہولت بھی نہیں ہوتی
بغاوت بھی نہیں کرتے جہاں والے
حکومت کی حمایت بھی نہیں ہوتی
جدا ہو کے بھی کہتا ہے ملو مجھ سے
نہ جانے کی رعایت بھی نہیں ہوتی
تِری باتوں کا مُنکر تو نہیں ہوں میں
مگر ان میں صداقت بھی نہیں ہوتی
محبت سے ملے ہیں دکھ سبھی افضل
کسی اک پر ملامت بھی نہیں ہوتی
گزر جاتا ہے آگے سے مِرا مجرم
اسے مجھ سے ندامت بھی نہیں ہوتی
لبوں سے لب ملا دے وہ کبھی احسن
کوئی ایسی شرارت بھی نہیں ہوتی
عمیر احسن
No comments:
Post a Comment