Monday, 6 April 2026

جس سے تم روٹھو وہ برگشتۂ دنیا ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جس سے تم روٹھو وہ برگشتۂ دنیا ہو جائے

تم جسے چاہو وہ قطرہ ہو تو دریا ہو جائے

ان کی دہلیز پہ رکھ دوں تو جبیں پھر نہ اٹھے

عالمِ شوق میں ایسا کوئی سجدہ ہو جائے

قہر سے دیکھو تو شاداب چمن جل جائے

مسکرا دو تو مِری خاک بھی زندہ ہو جائے

جس پہ تم ڈال دو خوش ہو کے نگاہِ رحمت

اوج پر اس کے مقدر کا ستارا ہو جائے

اے خوشا بخت کہ جب موت کی ہچکی آئے

نور والے! تِرے جلوؤں کا نظارا ہو جائے

چاہنے والے ہی دنیا میں رہیں خانہ خراب

آپ اگر چاہیں تو یہ غم بھی گوارا ہو جائے

دیکھیے ڈوب ہی جائے نہ بے چارہ ارشد

اب تو سرکار مدینہ سے اشارا ہو جائے


ارشد القادری 

No comments:

Post a Comment