Monday, 6 April 2026

بے گانگی میں یوں ہی گزارا کریں گے ہم

 بے گانگی میں یوں ہی گزارا کریں گے ہم

بے چین ہوں تو خود کو پکارا کریں گے ہم

آبادیوں کے حزن میں صحرا کے شہر میں

بستی نئی بسا کے نظارا کریں گے ہم

اپنے دکھوں کو ان کی خوشی میں چھپائیں گے

ان کی ہنسی کی بھینٹ اتارا کریں گے ہم

جو جی میں آئے گا وہ کریں گے سرور میں

پھر فصل گل کو بعد گوارا کریں گے ہم

نا آشنا حبیب کی بے اعتنائی پر

بزم تخیلات سنوارا کریں گے ہم

از روئے انتقام ترے در تک آئیں گے

از روئے مہر تجھ سے کنارا کریں گے ہم

اپنے ہر ایک جھوٹ پہ ایمان لائیں گے

اپنی انا کا بوجھ اتارا کریں گے ہم


طلعت اشارت

No comments:

Post a Comment