Monday, 6 April 2026

منزل عشق پہ بے خوف و خطر جاؤں گا

 منزلِ عشق پہ بے خوف و خطر جاؤں گا

راہ دُشوار سہی، پھر بھی گزر جاؤں گا

پی چکا ہوں میں بہت، نہ اور پلا ساقی

حد سے زیادہ جو پلائی تو بکھر جاؤں گا

دور ہو مجھ سے بہت منزلیں دشوار سہی

تجھ کو پانے کے لیے شمس و قمر جاؤں گا

تیرے ہی در سے میں نے آس لگا رکھی ہے

تم بھی گر ہو گئے بد ظن تو کدھر جاؤں گا

جس طرح شمع پہ جاں کرتا ہے پروانہ فدا

اس طرح جل کے تیری یاد میں مر جاؤں گا

ایک مے خانہ وہاں پر بھی سجانا ہے مجھے

یہ ہی ارمان لیے عزمِ سفر جاؤں گا

ذہن نے جسم سے فریاد کی یہ وقتِ دفن

پیرہن خاک کا پہنوں گا تو مر جاؤں گا


عوض کیرانوی

No comments:

Post a Comment