Tuesday, 7 April 2026

ان کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


انؐ کے روضے پہ بہاروں کی وہ زیبائی ہے

جیسے فردوس پہ فردوس اتر آئی ہے

پاؤں چُھو جائے تو پتھر کا جگر موم کرے

ہاتھ لگ جائے تو شرمندہ مسیحائی ہے

جانے کیوں عرش کی قندیل بُجھی جاتی ہے

ان کے جلوؤں میں نظر جب سے نہا آئی ہے

مل گئی ہے سرِ بالیں جو قدم کی آہٹ

رُوح جاتی ہوئی شرما کے پلٹ آئی ہے

سر پہ سر کیوں نہ جُھکیں انؐ کے قدم پہ ارشد

اک غلامی ہے تو کونین کی آقائی ہے


ارشد القادری 

No comments:

Post a Comment