Tuesday, 7 April 2026

لطیف طرز سخن کا دے آبشار مجھے

 لطیف طرز سخن کا دے آبشار مجھے 

کمال ندرت تخیل سے سنوار مجھے

ادب کی راہ میں تجدید کے کھلیں غنچے 

عطا ہو نظم گلستان کا اختیار مجھے

ہے آسمان تخیّل پہ فکر کا طائر 

عروج فن میری دہلیز پر اتار مجھے

زمیں غزل کی ہو ہوں کاشت گوہر تخیل 

نہیں پسند ادب میں یہ خشت و خار مجھے

حریم ناز غزل پھر سجے دلہن کی طرح 

کہ عندلیب سخن بن کے پھر پکار مجھے

ہو گلفشانی الفاظ خوب رنگ و حسین 

عروج فہم کا خود پر دے اختیار  مجھے

میں مُلتمس ہوں کہ احسن ہو میرا ہر نغمہ 

کہ فیض خاص سے یا رب بس اب نکھار مجھے


احسن لکھنوی

No comments:

Post a Comment