لطیف طرز سخن کا دے آبشار مجھے
کمال ندرت تخیل سے سنوار مجھے
ادب کی راہ میں تجدید کے کھلیں غنچے
عطا ہو نظم گلستان کا اختیار مجھے
ہے آسمان تخیّل پہ فکر کا طائر
عروج فن میری دہلیز پر اتار مجھے
زمیں غزل کی ہو ہوں کاشت گوہر تخیل
نہیں پسند ادب میں یہ خشت و خار مجھے
حریم ناز غزل پھر سجے دلہن کی طرح
کہ عندلیب سخن بن کے پھر پکار مجھے
ہو گلفشانی الفاظ خوب رنگ و حسین
عروج فہم کا خود پر دے اختیار مجھے
میں مُلتمس ہوں کہ احسن ہو میرا ہر نغمہ
کہ فیض خاص سے یا رب بس اب نکھار مجھے
احسن لکھنوی
No comments:
Post a Comment