Wednesday, 8 April 2026

جب درد کے ماروں سے تقدیر الجھتی ہے

 جب درد کے ماروں سے تقدیر الجھتی ہے

ہر حرفِ دعا سے پھر تاثیر الجھتی ہے

یہ حکم ستمگر کا ہے؛ تیز چلیں لیکن

بے جرم اسیروں سے زنجیر الجھتی ہے

کیوں ہم پہ ہی جینے کا ہر باب مقفل

تدبیر کریں بھی تو تقدیر الجھتی ہے

تھک ہار کے دنیا سے آتا ہوں جو کمرے میں

ہر شام تِری مجھ سے تصویر الجھتی ہے

رسوائی کے پہلو بھی تسکیں سے نکلتے ہیں

اس لفظِ محبت کی تفسیر الجھتی ہے

اک نام تِرا لکھنا اوراق کے سینے پر

لفظوں سے مرے اکثر تحریر الجھتی ہے


علی عمار کاظمی

No comments:

Post a Comment