بستر کی ہر شکن پہ ہوا کا غلاف تھا
ورنہ مِرا وجود تو پہلے ہی صاف تھا
تجھ بن ہمارے پاؤں کو رستہ نہ مل سکا
پانی تو اس ندی کا بڑا پاک صاف تھا
شیشے بہ فیضِ تشنہ لبی ٹوٹتے رہے
رِندوں کا میکدے سے عجب انحراف تھا
پیتے تھے اور گھر کا پتہ پوچھتے نہ تھے
بس اک یہی گناہ تو ہم کو معاف تھا
سلجھا رہے تھے لوگ سب آپس کی الجھنیں
ورنہ جہاں میں کون کسی کے خلاف تھا
طلعت غزل کے نام کو پہونچا تو کس طرح
یہ آدمی تو ایک ادھورا زِحاف تھا
طلعت عرفانی
تلک راج
No comments:
Post a Comment