جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے سرِ آب رواں
سبز مٹی ہے جزیرہ ہے سر آب رواں
صفِ افراد ہے دریا کے کنارے پہ کھڑی
اور امامت کا مصلہ ہے سر آب رواں
ایک صندوق ہے، صندوق پہ ہے نقشِ قدیم
اس کے ہمراہ عریضہ ہے سر آب رواں
عالمِ خلق سے بُت ساز نکالا جس نے
وہ خدا اب بھی اکیلا ہے سر آب رواں
ایک تو وہ ہے جو لہروں میں بناتا ہے بھنور
دوسرا اس کے علاقہ ہے سر آب رواں
عماد اظہر
No comments:
Post a Comment