Wednesday, 8 April 2026

وہ خدا اب بھی اکیلا ہے سر آب رواں

 جاگتی آنکھ سے دیکھا ہے سرِ آب رواں

سبز مٹی ہے جزیرہ ہے سر آب رواں

صفِ افراد ہے دریا کے کنارے پہ کھڑی

اور امامت کا مصلہ ہے سر آب رواں

ایک صندوق ہے، صندوق پہ ہے نقشِ قدیم

اس کے ہمراہ عریضہ ہے سر آب رواں

عالمِ خلق سے بُت ساز نکالا جس نے

وہ خدا اب بھی اکیلا ہے سر آب رواں

ایک تو وہ ہے جو لہروں میں بناتا ہے بھنور

دوسرا اس کے علاقہ ہے سر آب رواں


عماد اظہر

No comments:

Post a Comment