جاتے جاتے اس قدر احسان مجھ پر کر گیا
وہ مِری ان خشک آنکھوں کو سمندر کر گیا
جس کو صدیاں لگ گئیں آباد کرنے میں مجھے
پل میں وہ برباد ہر اک اس کا منظر کر گیا
میری اس صحرا نوردی کا سبب اک یہ بھی ہے
میرے ہر اخلاص کو ٹھکرا کے بے گھر کر گیا
یہ الگ بات آج تک اس کا نشاں پایا نہیں
ڈھونڈنے میں مشرق و مغرب برابر کر گیا
غیر کو مل جائے تو کچھ کہہ نہیں سکتے مراد
تیری چوکھٹ پر میں آیا اور جی بھر کر گیا
علی مراد
No comments:
Post a Comment