Wednesday, 8 April 2026

ہجر کے درد نے مٹا ڈالا

 ہجر کے درد نے مِٹا ڈالا

مجھ کو اک فرد نے مٹا ڈالا

کچھ مجھے بے نِشاں کیا اس نے

کچھ دل زرد نے مٹا ڈالا

میں نشانِ سفر تھا اور مجھے

راہ کی گرد نے مٹا ڈالا

اس کے خوابوں کے ریتلے گھر کو

پھر کسی مرد نے مٹا ڈالا


علی اکبر منصور

No comments:

Post a Comment