بر مرگِ ہمایوں مرزا
موت نے کر دیا برباد مجھے اے لوگو
میرے گھر کو میرے در کو یہ میرے جینے کو
ہائے کل مجھ سے جو ہنس ہنس کے گلے ملتے تھے
آج وہ چھوڑ گئے مجھ کو فقط رونے کو
ہائے کس سے میں کروں جا کے تمہارا شِکوہ
مجھ کو تم چھوڑ گئے جلنے کو انصاف کرو
میرے عاشق، میرے شیدا، میرے مرنے والے
اب کہاں تم ہو، کدھر تم ہو، بتا دو کچھ تو؟
میرے سرتاج مجھے چھوڑ کے جانے والے
مجھ سے کیوں رُوٹھ گئے پاس بلا لو اب تو
اب حیا روتی ہے، چِلاتی ہے، سر پیٹتی ہے
تم سنبھالو اسے، لِلہ منا لو اس کو
صغرا ہمایوں مرزا حیا
No comments:
Post a Comment