تم جا رہے ہو ہم کو بھلانے کے واسطے
ہم آ رہے ہیں تم کو منانے کے واسطے
پتھر کے پاس دل کہاں جس کو برا لگے
کیوں اتنا سوچتے ہو ہٹانے کے واسطے
کچھ سازشیں تو صرف اسی وجہ سے ہوئیں
اپنے کو سازشوں سے بچانے کے واسطے
مجھ کو بھلا کے وہ بھی کئی بار روئے ہیں
لیکن وفا کا ڈھونگ رچانے کے واسطے
کوئی نہیں ہے بزم میں جو تم کو پوچھ لے
لگتا ہے مر گئے ہو زمانے کے واسطے
علی کاظم
No comments:
Post a Comment