ہوا کے دوش پر جیسے سمندر رقص کرتا ہے
زمین دل پہ جذبوں کا سخنور رقص کرتا ہے
خیال عیش و عشرت کی کشش اور قید سے باہر
لگن میں ڈوب جائے تب قلندر رقص کرتا ہے
سبھی جذبے اتر آئیں گے آخر شعر کی صورت
قلم کی نوک پر حرف معطر رقص کرتا ہے
کبھی رب کی اطاعت میں چھری کی زد میں آ جائے
کبھی عشق و یقیں آتش کے اندر رقص کرتا ہے
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تاج و تخت کی خاطر
بھلا کر غیرت شاہی سکندر رقص کرتا ہے
فنا ہو کر جو پالے عشق کی منزل مقدر سے
بقا کے آسمانوں میں وہ شہپر رقص کرتا ہے
سر بازار یاں طاقت کے بل پر روز ہی کوئی
زمیں پر روند کر مفلس کی چادر رقص کرتا ہے
جنون عشق کی جب سے اٹھی ہے لہر سی دل میں
وہ دیوانہ بنا پھرتا ہے دردر رقص کرتا ہے
انا الحق کا کبھی نعرہ کبھی ہے عشق سولی پر
کبھی نوک سناں پر تسنہ لب سر رقص کرتا ہے
جو دل میں عشق احمد ہو زباں پر لا الہ جاری
مقابل ہو اگر کافر تو کافر رقص کرتا ہے
کسی کی جیت پر یہ زندگی آنسو بہاتی ہے
کسی کی ہار پر انجم مقدر رقص کرتا ہے
غزالہ انجم
No comments:
Post a Comment