Saturday, 22 May 2021

بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا

 بعد مرنے کے کوئی بوسۂ رخصت دے گا

کیا خدا مجھ کو بھی ایسی بھلی قسمت دے گا

زندگی ہے یہ میاں رنج و الم تو ہوں گے

جو گزارے گا وہ لازم ہے کہ قیمت دے گا

فرضی دنیا سے نکل اور حقیقت لکھ دے

شعر پرواز کرے گا تجھے عزت دے گا

دیکھ مایوس نہ ہو کفر نہیں کر پیارے

بے دلی چھوڑ خدا تجھ کو بھی راحت دے گا

کر گئی عمر اکارت مری ہائے ہائے

اک غلط فہمی کہ تو مجھ کو محبت دے گا

کل ملا کے ہے اثاثہ مِرا یہ عمر رواں

رد نہیں ہوگی دعا رب مِرا برکت دے گا

میں تو سمجھا تھا محبت کا بلاوا ہے عمر

کیا خبر تھی وہ مجھے موت کی دعوت دے گا


عابد عمر

No comments:

Post a Comment